نئی دہلی، 21/اکتوبر (ایس او نیوز /ایجنسی) سپریم کورٹ نے پیر کے روز آئین کی تمہید سے 'سوشلزم' اور 'سیکولرزم' کے الفاظ ہٹانے کے مطالبے پر سماعت کے دوران ایک وکیل سے پوچھا، "کیا آپ نہیں چاہتے ہیں کہ ہندوستان سیکولر رہے؟" جسٹس سنجیو کھنہ نے ایڈووکیٹ وشنو شنکر جین سے یہ سوال کیا۔ درخواست میں یہ موقف اپنایا گیا ہے کہ ان الفاظ کا آئین کی تمہید میں شامل کرنا پارلیمنٹ کی آرٹیکل 368 کے تحت ملی آئین میں تبدیلی کی طاقت سے باہر ہے۔ اس سماعت کے دوران عدالت نے وکیل کی دلیلوں کا جائزہ لیتے ہوئے اہم سوالات اٹھائے۔
سپریم کورٹ نے اس عرضی پر سماعت کرتے ہوئے کہا کہ ’سوشلزم‘ اور ’سیکولرزم‘ الفاظ کی آج الگ الگ تشریحات ہیں۔ یہاں تک کہ ہماری عدالتیں بھی انھیں بار بار بنیادی ڈھانچہ کا حصہ قرار دے چکی ہیں۔ جسٹس سنجیو کھنہ نے کہا کہ سماجوادی کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ سبھی کے لیے مناسب مواقع ہونے چاہئیں، یہ مساوات کے نظریہ سے تعلق رکھتا ہے۔ اسے مغربی ممالک کی سوچ سے الگ سمجھیں۔ سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ سوشلزم لفظ کچھ الگ معنی بھی ہو سکتے ہیں۔ سیکولرزم لفظ کے ساتھ بھی ایسا ہی ہے۔
عرضی دہندہ کے وکیل وشنو شنکر جین نے اس معاملے میں اپنی بات رکھتے ہوئے کہا کہ اس ایشو پر پارلیمنٹ میں بحث نہیں ہوئی تھی۔ یہ آئین ساز اسمبلی میں پیش نظریہ کے خلاف ہے۔ اس سماعت کے دوران عرضی دہندہ سبرامنیم سوامی نے کہا کہ آئین کی تمہید میں جو تبدیلی ہوئی وہ حقیقی آئین کے جذبہ کے خلاف تھا۔ سوامی نے عدالت سے گزارش کی کہ وہ اپنی دلیل تفصیل سے رکھنا چاہتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے میں نوٹس جاری کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ہم 18 نومبر سے شروع ہونے والے ہفتہ میں سماعت کریں گے۔